مینگلور،11؍ فروری (ایس او نیوز) سورتکل ٹول گیٹ کو ہٹانے کا مطالبہ لے کر آپات باندھوا ادارہ کے آصف نے کیچڑ کے گڑھے میں لت پت ہونے کا جو مسلسل احتجاج شروع کیا ہے وہ پانچویں دن میں داخل ہوگیا۔
مختلف اداروں اور تنظیموں کے لیڈران نے بغیر کسی رکاوٹ کے دن کے چوبیس گھنٹے جاری رہنے والے اس انوکھے احتجاج کے مقام پر پہنچ کر آصف کو اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا ۔خیال رہے کہ آصف نے ٹول گیٹ کے آس پاس ایک گڑھا کھدوایا ہے اور اس میں پانی بھروانے کے بعد کیچڑ میں لت پت ہوکر احتجاجی مظاہرا کر رہے ہیں۔
آصف کا کہنا ہے کہ ٹول گیٹ ہٹانے سے پہلے احتجاج کو ختم کرنے کا کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا ۔ اس احتجاج میں انہیں اداروں کے ذمہ داران اور عوام کا بھر پور ساتھ مل رہا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس مسئلہ پر متعلقہ سرکاری محکمہ جات کی توجہ مبذول کروانے کے لئے وہ اس سے بھی خطرناک اقدامات کرنے والے ہیں۔
آصف اس بات پر بضد ہیں کہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو احتجاج کے مقام پر پہنچ کر میمورنڈم وصول کرنا چاہیے ، کیونکہ محض چند کلو میٹر کی دوری پر ٹول گیٹ کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ اگر اسے ہٹانے کے اقدامات نہیں ہوئے تو پھر دوسرے اداروں کی مدد سے احتجاج کو مزید تیز کیا جائے گا۔
سورتکل کے سرکل پولیس انسپکٹر چندرپّا نے موقع پراحتجاجیوں کو سمجھانے کی کوشش کی کہ یہاں ٹول وصولی مرکزی حکومت کے ہائی ویز ڈپارٹمنٹ کی اجازت سے کی جا رہی ہے ، اس لئے اس کا حل صرف اُسی محکمہ کی طرف سے نکالا جا سکتا ہے۔